moonlightforall.com

Real entertainment providers

دل کے ادھورے لفظ
Urdu Novels Review

Dil kay Adhoray Lafz by Bint e Sheikh Ramzan

Dil kay Adhoray Lafz by Bint e Sheikh Ramzan

It’s the first episode of my reviewing the Urdu Afsana by a new writer. It’s not a technically reviewed piece of literature; it’s just my perspective on what other writers write, as a viewer. Read and comment on what you like and what needs improvement. Do follow Bint-e-Sheikh Ramzan on Instagram and read the full story of “Dil Kay Adhoray Lafz.” Also, if you are a new writer and want to share your story with us for a review, contact us on our Instagram here

دل کے ادھورے لفظ

دل کے ادھورے لفظ 

بنت شیخ رمضان

یہ آغاز ہے ’’کہانی سانس لیتی ہے‘‘ سلسلے کا۔
اور ہماری پہلی کہانی ہے
دل کے ادھورے لفظ 

نام پڑھ کر اچھا لگا، اور اس کی وجہ الفاظ کا چناؤ تھا۔ بہت کم حالات میں ہمیں اب ادبی نام دکھتے ہیں، جو پڑھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ کسی کہانی یا ناول کا نام ہوگا۔

سرورق اچھا لگا، مگر شکایت تو ہمیں دیباچہ سے ہے۔
دیباچہ پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے جھگڑے ایک عام معمول ہیں، اور اس میں کوئی دو رائے نہیں، لیکن نہ جانے کیوں دیباچہ سے ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ کہانی میں ایک عورت کی عزت اور دوسری کی ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے، اور مرد کو ہر چیز سے بری آزماں کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب صرف دیباچہ تک کی سوچ تھی، کہانی میں کیا ہے، یہ تو بعد میں ہی پتا چلتا ہے۔

تو کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔
کہانی ایک گھر کی ہے، یا یوں کہیں کہ ایک بہو کی، جو نئی نویلی بیوی تو نہیں ہے، مگر ایک تین ماہ کے بچے کی ماں ضرور  ہے۔

کہانی مختصر ہے، اس لیے حرف بہ حرف تو بیان نہیں کر سکتی، مگر اچھے اور برے سب خیالات یہاں ضرور بیان کرنا چاہوں گی۔

کہانی ایک لڑکی کی ہے، جو پسند کی شادی کر کے اب اپنے سسرال میں رہ رہی ہے۔ لڑکی یتیم ہے اور بھائی بھابھی کے ساتھ رہتی ہے۔ یہ چند الفاظ میں کہی گئی بات تھی، یا یوں کہہ لیں کہ محض کردار کی ایک مختصر تفصیل، مگر کتنا کچھ کہہ گئی۔ ایک یتیم لڑکی کی پسند کی شادی، جس پر نہ اس کے بھائی کو اعتراض تھا، نہ بھابھی نے عزت کا رونا رویا، نہ لڑکے کے گھر والوں نے یتیمی پر سوال اٹھایا، نہ لڑکی کے کردار کو داغدار کیا۔ کیسا المیہ ہے نا ہمارے معاشرے کا، کبھی ہمیں یہ باتیں کتنی معمولی لگتی ہیں، اور کبھی یہی اخبارات کی سرخیاں بن جاتی ہیں۔ یہ معمولی الفاظ نہ جانے کیوں میری آنکھوں کے سامنے کئی کہانیوں کے منظر ابھار گئے۔ 

وہ کہانیاں پھر کبھی سہی۔ 

پسند کی شادی کوئی داغ نہیں ہے، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ پسند کی شادی زیادہ نہیں چلتی، غلط کہتے ہیں۔
حقیقت میں پسند کی شادی چلتی ہے، اگر خاندان چلنے دے، اور اگر خاندان صرف نفرت کرنا جانتا ہو تو شادی پسند کی ہو یا ناپسندیدہ، وہ ٹوٹ ہی جاتی ہے۔

ہماری لکھاری صاحبہ کی کہانی پڑھ کر میرا یہ خیال اور پختہ ہو گیا، کیونکہ اس کہانی کی لو اسٹوری بھی ختم ہونے کے دھانے پر تھی، مگر بڑوں کی دانش مندی نے اسے بچا لیا۔

اب بات کر لیتے ہیں آسیہ بیگم کی، جو کہ ہماری ہیروئن کی ساس ہیں۔ نفیس خاتون، یا یوں کہہ لیں آئیڈیل ساس۔
یقیناً جس طرح انہوں نے اپنے بیٹے اور بہو میں صلح کروائی، وہ قابلِ تعریف ہے، مگر میرے کچھ اعتراضات ہیں۔

پہلا اعتراض یہ ہے کہ کہانی میں بہو کا تین ماہ کا بچہ ہے، اس کے باوجود دکھایا گیا کہ تانیہ پورے گھر کا کام کرتی ہیں، یہاں تک کہ دیور اور نند کے کپڑوں کا خیال رکھنا، انہیں پریس کرنا وغیرہ بھی۔
میرا اعتراض یہ ہے کہ آسیہ بیگم کی اولاد اتنی بڑی ہے، مگر یہ چھوٹے چھوٹے کام وہ خود کیوں نہیں کرتی۔ ویسے تو ماں کو اپنے بچوں کو اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پھر یہ ساری ذمہ داری خود اٹھائیں، بہو کو منتقل نہ کریں۔ آپ کو اپنی اولاد سے پیار ہے تو اس کے نخرے خود اٹھائیں، بہو کو یہ ذمہ داری دے کر گھر کا نوکر نہ بنائیں۔

آسیہ بیگم کی یہی غلطی علی اور تانیہ کا گھر برباد ہونے کی وجہ بن سکتی تھی، مگر مجھے اچھا لگا کہ لکھاری صاحبہ نے یہ محض سچویشن بنانے کے لیے کیا، اور آسیہ بیگم نے وقت رہتے ایک اچھا فیصلہ کر کے اپنے بیٹے اور بہو کا گھر بچا لیا۔

دوسرا اعتراض مجھے علی کے کردار پر ہے۔ کہانی کے مطابق وہ تانیہ سے محبت کرتا ہے، مگر اس کے الفاظ، لہجہ اور اس کے اعتراضات سب کے سب فرسودہ ہیں۔ بیوی ہے تو میرے سب کام وہ کرے، آخر کیوں ہمارے معاشرے میں آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ بیوی آنے کے بعد وہ ہر کام سے عاری ہو جاتا ہے۔ صبح اٹھنا، الماری سے کپڑے نکالنا، انہیں استری کرنا، اپنی چیزوں کا خیال رکھنا، انہیں جگہ پر رکھنا، اپنے جوتے پالش کرنا—یہ سب ایک لڑکا اگر شادی سے پہلے خود کرتا ہے تو بعد میں وہ یہ امید کیوں کرتا ہے کہ اس کی بیوی یہ سب کام کرے گی؟ اس سے کیسے محبت ثابت ہوتی ہے اور بڑھتی ہے؟ یہ تو ایسے ہوا کہ لڑکا شادی نہیں کر رہا بلکہ اپاہج ہو رہا ہے، اس لیے اسے اب کل وقتی ایک نرس کی ضرورت ہے۔

علی کے کردار نے غلط بولا، لیکن شکایت تانیہ کے کردار سے بھی ہے کہ اس نے شوہر کی ہاں میں ہاں ملائی۔ کہانی کے آخر میں بھی ساس کے سمجھانے پر تانیہ نے تو اپنی غلطی مان لی، باقی گھر والوں کو بھی سمجھ آ گیا کہ انہیں اپنے کام خود کرنے چاہئیں، لیکن مجھے افسوس ہے کہ آسیہ بیگم نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کا موقع نہیں آنے دیا۔

اور پھر کردار آتا ہے اُس لڑکی کا جو آفس میں موجود ہے۔ یقین کریں، میں ایسے کرداروں سے سخت نفرت کرتی ہوں جو صرف موقعے کی تلاش میں ہوتے ہیں، اور وہ لڑکے جو ایسی لڑکیوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اُن سے کہنا چاہتی ہوں کہ جو انسان آپ کے آفس میں تیار ہو کر بیٹھا ہے، آپ سے چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے، اُس کو وہ سب ذمہ داریاں دے کر دیکھیں جو آپ نے اپنی بیوی کو دی ہیں، آپ کو دوسرے دن ہی یہ آفس کی لڑکیاں اپنی بیوی سے بھی زیادہ بُری حالت میں دکھائی دیں گی۔

کیونکہ اس کی وجہ یہی ہے کہ جو آفس میں ہے، اُس کا کام تیار ہو کر آنا اور آفس کا کام کرنا ہے، اور جو گھر میں ہے وہ چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پر ہے۔ جب آپ اُسے کہیں گے کہ کہیں باہر چلیں تو وہ بھی تیار ہو جائے گی۔ اُسے بھی آفس جاب کی اجازت دیں، وہ بھی تیار ہو کر آفس جائے گی۔ گھر آرام کی جگہ ہے۔ جو عورت آپ کا، آپ کے بچوں اور گھر والوں کا خیال رکھ رہی ہے، حقیقت میں وہی آپ کے لیے اُس گھر کو سکون آور بنا رہی ہے۔

لکھاری صاحبہ نے بہت خوبصورتی سے اُس کردار کے ارادے دکھائے، اور پھر تانیہ کی سمجھ داری کی وجہ سے علی کو اُس کے ارادوں پر پانی پھیرتے بھی دکھایا۔ یہ پڑھ کر میرے دل کو ٹھنڈک ملی۔

مجھے کہانی اچھی لگی۔ مختصر تھی، اس لیے شاید مجھے لگا کہ لکھاری صاحبہ بہت سے پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈال پائیں۔ اگر یہی کہانی ناول کی صورت میں ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ لکھاری صاحبہ بہت کمال لکھتیں، کیونکہ اس مختصر کہانی میں مجھے بہت سے چھوٹے چھوٹے اسباق دکھائی دیے، وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اس کہانی کا انتخاب کیا۔

یقیناً یہ کہانی ایک عام کہانی ہے، اور تقریباً برصغیر کے ہر لکھاری نے اسے کسی نہ کسی صورت میں اپنی کہانی میں ڈھالا ہوگا، مگر یہ عجیب بات ہے نا کہ سب کے اس موضوع پر زور دینے کے بعد بھی آج یہ بیماری ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں گاڑے ہوئے ہے۔ ایسی کہانیاں معاشرہ نہیں بدل سکتیں، لیکن مجھے امید ہے کہ اگر چند لوگوں کی سوچ بھی بدل جائے تو روشنی معاشرے میں پھیلنے لگے گی۔

اس کہانی کے جائزے کا اختتام کرتے ہیں، کیونکہ میرے سامنے اور بھی بہت سی لکھاریوں کے شاہکار موجود ہیں۔ ذرا مجھے اُن پر بھی نظرِ ثانی کرنے دیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *